Jaun Elia Biography and Poetry

0
5

 

 

Jaun Elia Poet Life

 

 

Jaun Elia Poetry – The most famous Jon Elia was born in December 14, 1931 & died on November eight, 2002. He become a Famous poet of Urdu Language, philosopher, biographer, and student of Pakistan. He became the brother of journalist Rais Amrohvi and Syed Muhammad Taqi, and husband of columnist Zahida Hina. He turned into properly at Arabic, English, Persian, Sanskrit and Hebrew. Jaun Elia first collection of poetry “Shayad” changed into published in 1991, while he changed into 60. Jaun Elia creation in this series furnished in-intensity of his works and the subculture inside which he changed into conveying his ideas. The advent can also be considered as a fine instance of current Urdu writing fashion.

 

 

ضبط کر کے ہنسی کو بھول گیا

ضبط کر کے ہنسی کو بھول گیا
میں تو اس زخم ہی کو بھول گیا

ذات در ذات ہم سفر رہ کر
اجنبی اجنبی کو بھول گیا

صبح تک وجہ جاں کنی تھی جو بات
میں اسے شام ہی کو بھول گیا

عہد وابستگی گزار کے میں
وجہ وابستگی کو بھول گیا

سب دلیلیں تو مجھ کو یاد رہیں
بحث کیا تھی اسی کو بھول گیا

کیوں نہ ہو ناز اس ذہانت پر
ایک میں ہر کسی کو بھول گیا

سب سے پر امن واقعہ یہ ہے
آدمی آدمی کو بھول گیا

قہقہہ مارتے ہی دیوانہ
ہر غم زندگی کو بھول گیا

خواب ہا خواب جس کو چاہا تھا
رنگ ہا رنگ اسی کو بھول گیا

کیا قیامت ہوئی اگر اک شخص
اپنی خوش قسمتی کو بھول گیا

سوچ کر اس کی خلوت انجمنی
واں میں اپنی کمی کو بھول گیا

سب برے مجھ کو یاد رہتے ہیں
جو بھلا تھا اسی کو بھول گیا

ان سے وعدہ تو کر لیا لیکن
اپنی کم فرصتی کو بھول گیا

بستیو اب تو راستہ دے دو
اب تو میں اس گلی کو بھول گیا

اس نے گویا مجھی کو یاد رکھا
میں بھی گویا اسی کو بھول گیا

یعنی تم وہ ہو واقعی؟ حد ہے
میں تو سچ مچ سبھی کو بھول گیا

آخری بت خدا نہ کیوں ٹھہرے
بت شکن بت گری کو بھول گیا

اب تو ہر بات یاد رہتی ہے
غالباً میں کسی کو بھول گیا

اس کی خوشیوں سے جلنے والا جونؔ
اپنی ایذا دہی کو بھول گیا

….

گاہے گاہے بس اب یہی ہو کیا

گاہے گاہے بس اب یہی ہو کیا
تم سے مل کر بہت خوشی ہو کیا

مل رہی ہو بڑے تپاک کے ساتھ
مجھ کو یکسر بھلا چکی ہو کیا

یاد ہیں اب بھی اپنے خواب تمہیں
مجھ سے مل کر اداس بھی ہو کیا

بس مجھے یوں ہی اک خیال آیا
سوچتی ہو تو سوچتی ہو کیا

اب مری کوئی زندگی ہی نہیں
اب بھی تم میری زندگی ہو کیا

کیا کہا عشق جاودانی ہے!
آخری بار مل رہی ہو کیا

ہاں فضا یاں کی سوئی سوئی سی ہے
تو بہت تیز روشنی ہو کیا

میرے سب طنز بے اثر ہی رہے
تم بہت دور جا چکی ہو کیا

دل میں اب سوز انتظار نہیں
شمع امید بجھ گئی ہو کیا

اس سمندر پہ تشنہ کام ہوں میں
بان تم اب بھی بہہ رہی ہو کیا

….

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here